نیا قاعدہ ۔۔۔ سعیدہ گزدر

نیا قاعدہ

( سعیدہ گزدر )

بچوں کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے ماں باپ کو کس قدر ذلیل اور خوار ہونا پڑتا ہے اور کن مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے ہم میں سے بیشتر والدین اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔ چار برس کی ننھی سی عمر میں جب وہ جملے بھی صحیح طرح ادا نہیں کر پاتا، بچے کو داخلے کے واسطے اس طرح تیار کرنا پڑتا ہے ایسے ایسے سوالنامے حل کروانے پڑتے ہیں کہ وہ پکا عالم فاضل بن جائے۔ ان امتحانی پرچوں کے بعد جو تین تینگھنٹے تک جاری رہتے ہیں ذرا ذرا سی معصوم جانوں کو والدین کے ساتھ لمبی لمبی قطاروں میں انٹرویو کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے. مہینوں کے ان بے حد سنجیدہ اور سازشی قسم کے چالاکی سے بھرے معرکوں، بھاگ دوڑ اور جوڑ توڑ سے گزرنے کے بعد بچے کا بھولپن سادگی اور معصومیت جیسے بہت پیچھے رہ جانے والے بوڑھے کی طرح ہانپتے معلوم ہوتے ہیں. مجھے بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا جب میں نے اپنے4سال کے بیٹے کو پکارا۔

عمران اپنا نیا قاعدہ لاؤ. آج سے پڑھائی شروع اور کھیل بند۔”.”

“دیکھو. الف ہے الف سے انار ہوتا ہے”… میں نے قاعدہ کھول کر پہلا سبق شروع کیا

” نہیں۔ الف اسے امریکہ ہوتا ہے۔”

“امریکہ بھی ہوتا ہے. اب آگے بڑھو”

“. “نہیں امریکہ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا وہ ہمیں ایف-16 دیتا ہے.

“. “امریکہ تو ہمیں بہت کچھ دیتا ہے

“. “تمہیں ایف-16 ہی کیوں یاد رہا ؟

 “کیوں کہ ایف سولہ سے ہم دشمنوں کو مار بھگا ئیں گے”۔۔۔اس نے اکڑتے ہوئے کہا

“بری بات.” میں نے چمکارا.. “ہم سب کے دوست ہیں ہمارا کوئی دشمن نہیں۔ دشمنی کی باتیں نہیں کرتے۔”

“کیوں نہیں کرتے.؟ کل ہی تو آپ بھیا کی جغرافیہ والی کتاب سے پڑھ رہی تھی کہ پاکستان کے مشرق میں ہندوستان ہے جو ہمارا دشمن ہے اور شمال میں افغانستان”۔

“وہ تو کورس کی بات تھی لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے”. میں نے جھنجلا کر کہا

“جب ایسا ہوتا نہیں تو تو پڑھاتے کیوں ہیں ؟”

“اب تم پڑھوگے یا سوال جواب ہی کرتے رہو گے ؟” میں تقریبا چیخ پڑی۔

“دیکھو۔۔۔ ب سے بندر” .

“بندر”… ہاں عمران نے بزرگانہ شفقت سے کہا.. “لیکن بندر ڈگدگی پر ناچتا ہے اور ب سے بندوق ہوتی ہے چلتی ہے ایسے۔۔۔ڈہش۔ڈہش۔ٹھاں ٹھاں”

ڈہش۔۔. وہ اپنی دانست میں کم ازکم دس آدمیوں کو ڈھیر کر چکا تھا اور بےحد خوش تھا۔.

. میں سناٹے میں آگئی. کس طرح سمجھاوں ا سے..” بے سے بندوق بھی ہوتی ہے پر چند اچھے لوگ کسی کو نہیں مارتے, یہ چور، غنڈے اور بدمعاشوں کا کام ہے۔”

؟”. “پولیس والوں کے پاس بھی تو بندوق ہوتی ہیں کیا وہ بھی چور ڈاکو ہوتے ہیں

. “نہیں وہ بھلا کیسے ہو سکتے ہیں. وہ تو ان لوگوں کو مارتے ہیں اور ہم لوگوں کی حفاظت کرتے۔”

عمران نے جرح کی. “پولیس کی بندوق سے جو مرے کیا وہ ڈاکو ہوتا ہے”

ہاں

“اور ڈاکو اگر  پولیس والے کو مارے تو ؟”

میں سوچ میں پڑ گئی

“ہم بتائیں.” عمران کی آنکھیں چمک رہی تھیں..

“وہ پولیس والا شہید ہوتا ہے اور سیدھا جنت میں جاتا ہے “۔عمران نے تان کر کہا.

 “شاباش”۔ میں نے نجات کا سانس لیا

. “اب میں ڈال اور شین کا سبق کتاب میں سے نہیں پڑھوں گا” ۔ اس نے روٹھے لہجے میں کہا

“کیوں بیٹے ؟”

“اس لئے کہ مجھے پتہ ہے ش سے شہید ہوتا ہے اور ڈال سے ڈاکو”

میں لاجواب ہو گئی

“ایک بات بتاؤں.. میں اور بھیا بڑے ہو کر ڈاکو بنیں گے”۔ اس نے مجھے بڑے فخریہ انداز میں اطلاع دی۔

سانس کہیں بیچ میں اٹک گیا. “تم.”.. میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے

“ہم دونوں ڈاکو بن کر بہت سے پولیس والوں کو شہید کریں گے. وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔”

“آج بھیا اسکول سے آئے تو اس کی خبر لیتی ہوں.” میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے.. “اس طرح کی باتیں کرتا ہے تمہارے ساتھ اور ہاں کان کھول کر سن لو ڈاکو بہت برے ہوتے ہیں بے گناہوں کو مارتے ہیں۔آگ لگاتے ہیں۔”.

.” “پولیس والے بھی تو انہیں پکڑنے کے لیے جنگل میں آگ لگا دیتے ہیں

“وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن آخرتمہیں یہ سب کس طرح معلوم ہوتا ہے.؟ میں اب غصے میں کھول رہی تھی.

. “یہ سب اخبار میں چھپتا ہے. آپ اخبار نہیں پڑھتیں۔”.اس نے اترا کر مجھ سے پوچھا

. “تو اخبار پڑھ لیتا ہے” ؟ میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں

“بھائی آپ پڑھ کر سناتا ہے. ویسے میں بھی کچھ پڑھ لیتا ہوں۔”اس نے بے نیازی سے جواب دیا.

“بھیا کو اخبار میں بس یہی سب کچھ ملتا ہے پڑھنے کے لئے”. مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔”چلو سبق پڑھو یہ پ ہے، پ سے کیا ہوتا ہے ؟.” سامنے بنی پتنگ کی تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے میں خود کو بے وقوف محسوس کر رہی تھی

“پتنگ ہے یہ۔ وہ بیزاری سے بولا. پ سے پھانسی بھی ہوتی ہے.” میرے چہرے پر پھیلتی وحشت کو دیکھ کر جلدی سے بولا۔ “بھیا کہہ رہا تھا کل جیل میں تین آدمیوں کو پھانسی ہوئی.پھانسی اسی اس طرح دی جاتی ہے. اس نے گردن ٹیڑھی کرکے زبان باہر نکالی”.

“اس طرح”

“تم اور بھیا یہ باتیں کرتے ہو؟”.

اب میں بالکل نڈھال ہو چکی تھی.. اتنی تکان محسوس کر رہی تھی کہ ڈانٹنے کی سکت بھی نہیں تھی مجھ میں۔. یہ خوفناک باتیں.حادثوں اور موت کی۔۔۔۔ ڈاکوؤں اور لوٹ مارکی۔ میرے جان سےپیارے اتنے لاڈلے بچوں کا بچپن آگ، خون اور سزاؤں کی ہیبت ناک کالی زہریلی دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسی دھند  جو قاعدے میں بنے حروف کی طرف. گہری سنگین اور واضح تھی۔

. “نہیں میں اور بھیا دوسری باتیں بھی کرتے ہیں”. اس کی آواز سچ مچ کسی گہرے کنوئیں میں سے آ رہی تھی. وہ مجھے تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا شاید

؟”. “کیا

. “بھیا کہہ رہا تھا کہ اب ک سے کمہار نہیں ہوتا پرانے زمانے کی باتیں ہیں ک سے کرکٹ ہوتی ہے جو اسٹیڈیم میں کھیلی جاتی ہے اور جب کرکٹ نہیں کھیلی جاتی تو. کوڑے مارے جاتے ہیں۔”

. “بہت قابل ہوگیا تمہارا بھیا۔ میں نے اتنی اچھی اچھی کتابیں لا کر دی ہیں وہ نہیں پڑھتا بس یہ خرافات پڑھتا ہے. کل سے اخبار بند کردوں گی۔”

“بھیا کہتا ہے ان کہانیوں میں اچھی خاصی گپ ہوتی ہے., بھلا جادو کی چھڑی ہلانے سے میلا کچیلا لباس، پارٹی ڈریس کس طرح بن سکتا ہے اور ننگے پیروں میں شیشے کے جوتے کیسے فٹ آ جاتے ہیں ؟”.

“تم دونوں کتنے پکے ہو گئے ہو۔” میں نے بے بسی سے کہا.

“بھیا کہتا ہے کہ چھڑی لانے والا جادو تو کب کا ختم ہو چکا ہے., وی سی آر پر جو فلمیں آتی ہیں ان میں ہیرو، ہیروئن گاتے گاتے جیسے ہی سر کو گھماتے ہیں.ان کے کپڑے بدل جاتے ہیں اب چھڑی وغیرہ کی صورت نہیں۔”.

میرا اپنا سر گھوم رہا تھا۔.” “میں تمہیں نہیں پڑھا سکتی

“بھیا بھی یہی کہتا ہے۔” عمران نے بڑے بھائی کی اہمیت جتائی

 “کیا کہتا ہے تمہارا بھیا۔؟” اس دس سال کے فتنے سے جو میرا بڑا بیٹا ہے مجھے سچ مچ نفرت محسوس ہو رہی تھی۔.

.” آپ ناراض ہو جایں گی۔.”. عمران نے سہم کر کہا، ” خیر. اس نے آج مجھے اپنا قلم نہیں دیا تھا.” اسے کچھ اطمینان ہو گیا تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی سے غداری نہیں کر رہا تھا. صبح ہونے والی زیادتی کا بدلہ لے رہا تھا۔

” وہ کہتا ہے امی تو پرانے زمانے کی ہیں بس کہتی رہتی ہیں کہ پڑھولکھو اورکھیلو۔” اور کس قابل ہے وہ کمینہ.؟ ” میں سچ مچ آگ ہو رہی تھی

. “وہ کہتا ہے پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ امی ڈاکو نہیں بننے دیں گی تو میں مجاہد بن جاؤں گا. اور سرحدوں پر دشمنوں کو ماروں گا۔”

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: