سوال ۔۔۔ سلمان حیدر

سوال

سڑکوں پہ سناٹا ہے اور

جن عمروں میں

مائیں بیٹوں کے سگریٹ سے سلگے کپڑوں کی جیبوں میں

کوئی مہکتا خط دیکھیں تو

ہنس کر واپس رکھ دیتی تھیں

ان عمروں میں

اب ماووں کو

جسموں میں بارود کی بو اور لاشوں میں سکے کے چھید رلا دیتے ہیں

دل پر زخم اٹھانے والی عمر میں لڑکے

کمرے کی دیوار کے گھاو

بندوقوں کی تصویروں سے ڈھک دینے پر

آمادہ کیسے ہوتے ہیں

فتووں کی دھاریں ذہنوں

آخر کیسے کند کرتی ہیں

جنت میں جو کچھ بھی ہو گا

اس دنیا کو کون جہنم کر دیتا ہے

ماووں کی گودوں سے اٹھ کر

موت کی گود میں سونے والو

کچھ تو بولو۔۔

Read more Urdu Poetry

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: