کوئی آواز دیتا ہے ۔۔۔ شہناز روین سحر

کوئی آواز دیتا ہے

میری لائبریری ویران پڑی رہتی ہے ۔ کس قدر چاہت اور اشتیاق سے اکٹھی کی تھیں کتابیں ۔ ہجر کی ماری ہوئی منتظر کتابیں ۔۔ شاید یونہی راہ تکتی رہ جائی ہیں ۔

کبھی کبھی آوازیں دیتی ہیں ۔ اور میں صرف سنتی ہوں

ہاں اب ایک نئی لائبریری بن گئی ہے ۔ کہیں دور نہیں ۔ یہیں ہے میرے ذہن میں ۔

اس لائبریری میں کتابیں نہیں ہیں ۔ کچھ نایاب آوازیں اور زندگی کے کچھ قیمتی منظر ہیں ۔ یادوں کے اُٹھتے گرتے پردے پر کبھی کوئی منظر سامنے آتا ہے اور کبھی کوئی سامنے کا منظر دھند میں کھو جاتا ہے

آج پھر ایک منظرہے ۔ کچھ کھوئی ہوئی لیکن جانی پہچانی آوازوں کے ساتھ

۔۔۔۔

اُس روز بھی ماں نے مجھے ڈانٹا ۔ ” آخر تونے اپنا یونیفارم اتنا گندہ کیسے کیا

” امی رفو کی غلطی سے ہوا ۔ “

” کیا کیا رفو نے”

” اس نے مجھے اس وقت بتایا جب میں درخت پر چڑھ چکی تھی “

” کیا “

” یہی کہ یہ آم کا درخت نہیں ہے ، ورنہ میں اس پر کیوں چڑھتی”

” کیوں چڑھی تو درخت ہر، ٹانگ بازو ٹوٹ جاتا تو ؟”

” امی آج چاٹ والے کے پاس کچے آم نہیں تھے ۔ “

” تو ؟”

” تو میں نے سوچا درخت سے اتار لیتی ہوں”

وہ بڑے مزے کے دن تھے کالج میں ہم چاروں کا گروپ تھا رفو زاہدہ نرگس اور میں۔

نرگس یوں ناک سکیڑ کے رکھتی گویا بہنے سے روک رہی ہو اور اوپر گول شیشوں والی عینک بالکل کوئی چشمانٹو قسم کا الو لگتی ۔ لیکن گاتی کمال تھی ۔ آنکھیں بند کر کے سنو ۔ لگتا تھا مدھوبالا گا رہی ہے ۔ اس کی گائی ہوئی ولی دکنی کی غزل آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے

تجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا

جادو ہیں تورے نین غزالاں سوں کہوں گا

تعریف تورے قد کی الف دار سریجن

جا سرو و گلستاں کو خوش الحاں سوں کہوں گا

رفو کا کمال یہ تھا کہ فلم دیکھنے کے بعد اس کی کہانی اس طرح سناتی کہ سینما ہال جیسا مزہ آتا تھا

نرگس (فلم والی ہماری نہیں ) ” تم اتنے پریشان کیوں ہو مسافر کون ہے جس نے تمہیں اتنے دکھ دیئے ہیں “

دلیپ کمار ” یہ دکھ مجھے تمہی نے تو دیئے ہیں “

نرگس ” مجھے جانتے ہو تم ؟ کون ہوں میں ؟؟؟

دلیپ کمار ” عورت “

اب یہی کہانی جب میں گھر جا کراپنی پڑوسن سہیلیوں کو سناتی تو سکرپٹ کچھ اس طرح ہو جاتا ۔

نرگس ” پردیسی ! تم اتنے دکھی کیوں ہو”

دلیپ کمار ” کیونکہ مجھے تم نے دکھ دیئے ہیں “

نرگس ” میں نے کب دیئے ہیں “

دلیپ کمار ” عورت “

وہی کہانی وہی ہیرو ہیروئین ، وہی ڈائیلاگ لیکن جانے کیا گھپلا تھا سارا سکرپٹ برباد اور ساری فلم تہس نہس ہو جاتی

ایک دفعہ دو روز گذر گئے رفو کالج نہیں آئی ۔ ہمیں بڑی تشویش ہوئی ۔۔ سوچا کل بھی نہ آئی تو اس کے گھر جائیں گے اور صبح اپنے گھر سے اس کے گھر جانے کی اجازت بھی لے آئیں گے ۔ اجازت مل گئی ۔ مجھے ماں نے کہا چار پانچ بجے تمہاے ابو جان کو تمہیں لیئے بھیج دوں گی ان کے ساتھ گھر آ جانا

َوہ آج بھی نہیں آئی تو ہم نے چھٹی کے بعد اس کے گھر جانے کی ٹھان لی ۔ اب گھر کئ ڈھنٖڈیا پڑی ۔ ہم اس کے ساتھ تو اس کے گھر گئے تھے لیکن اپنے طور پر جانے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا تھا ۔۔ یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کونسے بس سٹاپ پر اترتی ہے

طے ہوا کہ آگے کا راستہ ہم اپنے اندازوں سے تلاش کر لیں گے آخر کوئی پہلی بار تھوڑا ہی جا رہے ہیں۔۔ جلدی کے مارے سپیشل بس کا بھی انتظار نہیں کیا پبلک بس میں ہی سوار ہو گئے ۔ اچانک دیکھا اسی بس میں رفو کے بھائی بھی تھے ہم اس لیئے پہچان گئے کہ کئی بار اسے لینے وہ کالجٓ آ چکے تھے ، ہم نے تو ان کو دیکھا ہوا تھا لیکن وہ ہمیں نہیں پہچانتے تھے ۔۔ سو بھائی کو دیکھ کر مشکل حل ہو گئی ۔

سوچا بس ہم لوگ ان کے پیچھے پیچھے ہی چلے جائیں گے ۔ اب وہ جہاں بس سے اترے ہم بھی اتر گئے پیچھا کرنا کافی تکلیف دہ تھا کیونکہ بھائی صاحب کبھی آہستہ آہستہ چلتے اور کبھی تیز تیز اور گھر کے قریب آ کر تو انہوں نے دوڑ ہی لگا دی ۔ ہم بھی بھاگم بھاگ گھر میں داخل ہوگئے تو وہ سخت گھبرائے ہوئے آپی جی کو بتا رہے تھے

” کچھ لڑکیاں میرے پیچھے لگی ہوئی ہیں ۔

” میں جس بس میں سوار ہوا ، تو وہ بھی اسی میں سوار ہو گئیں ، میں اترا ، تو وہ بھی اتر گئیں ، میں اہستہ چلا وہ بھی آہستہ چلیں ، میں تیز چلتا تو وہ بھی تیز چلتیں ، آپی جی ! وہ مسلسل میرا پیچھا رہی ہیں ۔۔ اور لگتا ہے اب تو گھر کے اندر تک گھُس آئی ہیں ۔ “

” کون لڑکیاں ہیں ” آپی جی نے اُٹھ کر دیکھنا چاہا

” نہیں آپ نہ جائیں ، پتہ نہیں وہ کیا کر دیں آپ کے ساتھ “

بھائی نے ان کا بازو پکڑ کر روکا

” ارے مجھے دیکھنے تو دے ۔۔ اچھا۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکیاں ۔۔۔۔

پاگل یہ تو رفو کی سہیلیاں ہیں”

ہم رفو کے کمرے میں پہنچے رفو بستر پر لیٹی ہوئی تھی

“مجھے تو بخار تھا “

” آج تو ٹھیک ہو تم”

” وہ ہمیں دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی”

” ہاں اتر تو گیا پر مریضوں والی شکل نکل آئی ہے”

اب ہم تینوں اس کے بستر پرلیٹی ہوئی تھیں اور مریضہ پلنگ کی پٹی پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ باہر بھائی ہمارے خلاف آپی جی کے پاس ابھی تک ایف آئی آر کٹوا رہے تھے

بھابی جان نے بہت مزے کے کوفتے بنائے ہوئے تھے ہم نے کھانا کھایا ، کچن میں فرحت باجی شامی کباب بنا بنا کر رکھ رہی تھیں جو شام کے کھانے میں تلے جانے تھے ۔ ہر کباب میں کٹی ہوئی باریک پیاز ہری مرچ پودینے کا سلاد بھرکر وہ کبابوں کی ٹکیاں بنا بنا کر رکھ رہی تھیں ہم نے تھوڑی مدد کی اور ایک کباب میں پوری کی پوری ہری مرچیں بھر دیں اچھا ہے یہ کباب بھائی کی پلیٹ میں آئے گا پھرموصوف کو مزہ ملے گا آپی سے ہماری شکایتیں کرنے کا ۔ بعد میں پتہ چلا وہ کباب ابا جان کی پلیٹ میں آیا تھا ۔ کھانا کھانے سے فارغ ہو کر تھوڑی بیت بازی کھیلی

مجھ پر واوْ کا شعر آیا تو میں نے پڑھا

وے صورتیں الہٰی کیس دیس بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

” پنجابی نہیں چلے گی شہناز باجی ۔۔۔ یہ پنجابی شعر ہے”

چھوٹے بھائی مانی نے ٹانگ اڑائی

” خوامخواہ ، پنجابی شعر پڑھا ہی نہیں میں نے “

” یہ پنجابی نہیں تو اور کیا ہے ، ترستیاں ہیں ، بستیاں ہیں ۔ آپ جناب اردو شعر سنائیں “

الف پر شعر آیا تو باری مانی کی تھی اور مانی نے ایک سیدھا سپاٹ جملہ کافی زور سے پڑھا

” یہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ آتے ہوتو آوْ لو چلا میں ۔۔۔ “

” اب یہ کیا ہے بھئی”

ہم نے احتجاج کیا

” یہ اقبال کا شعر ہے جناب ، یہ کتاب دیکھ لیں

” نظم میں ہے عنوان بارش کا پہلا قطرہ ۔ دیکھیئے دیکھیئے غور سے دیکھیئے”

” ہاں دیکھ لیا بارش کا پہلا قطرہ اسمٰعیل میرٹھی کی نظم ہے”

” شعر تو ہے نا پھر بھی ۔۔۔”

دن ڈھل رہا تھا ابوجی مجھے لینے آ چکے تھے نرگس کا گھر قریب تھا وہ اپنے گھر پیدل ہی چلی گئی تھی ۔ ہم نے زاہدہ کو پہلے اتارا اور پھر گھر آئے

یہ ایک یادگار دن تھا طے یہ پایا کہ اب زاہدہ اور نرگس اور میرے گھر بھی جائیں گے ایک ایک دن ۔ نرگس کے گھر گئے تو بس کھڑے کھڑے لوٹ آئے ۔ زاہدہ کے گھر جا کر بہت متاثر ہوئے اس نے کالج سے جا کر روٹی بنائی پھر بھائی سے سموسے مٹھائی اور بوتلیں منگوا کر ہماری خوب آوْبھگت کی ۔ اور پھر اپنا کمرہ بھی دکھایا ۔ ہر چیز قرینے سے پڑی تھی ۔ اس کے اٹیچی کیس میں کمال نفاست سے کپڑے طے ہوئے پڑے تھے ہم کہیں اندر سے نہایت مرعوب ہو گئے لیکن بظاہر زاہدہ کو ڈانٹا

” یار یہ تم ہر وقت کیسے اتنے ان انٹلکچوئئل کاموں میں پڑی رہتی ہو” ۔

” ٹھیک ہے کسی دن میرے گھر آ کے میرے کپڑے بھی سلیقے سے رکھ دینا مجھے اپنے کپڑے ہمیشہ ہی کپڑوں کے ڈھیر میں سے ڈھونڈنے پڑتے ہیں ۔۔۔”

طے یہ پایا کہ میرے گھر کی باری آئی تو رفو چکن کارن سوپ بنائے گی اور زاہدہ ریڈ ربن رائس بنائے گی ۔۔۔ گرمیوں کی چھٹیوں ان دونوں نے ککنگ کلاسز جوائن کی تھیں اور اب یہ اپنی کاریگری سے متاثر کرنے کے چکر میں تھیں ۔ میں اور امی ججز تھے سو میرے گھر کے کچن کو رونق بخشی گئی زاہدہ ریڈ ربن رائس بنا رہی تھی بنا کیا رہی تھی سارا کام امی نے کر دیا الگ الگ رنگ میں سرخ سفید اور زرد چاول بنائے اور پھر ان کے بیچ ہری چٹنی اور بھنے ہوئے قیمے کی جابجا تہہ ایک گول دیگچی میں جمائی اور پھر وہ سب ایک بڑی ڈش میں کیک کی شکل میں الٹا کر کے نکال لیا ۔ اوپر ٹماٹر کے پھول ہری مرچ کی پتیاں دھنئیے پودینے کی سجاوٹ کی ۔۔ امی نے خوشی خوشی زاہدہ کو بہترین ککُ قرار دے دیا لیکن جب رفو نے چکن کارن سوپ بنایا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں ۔۔ اور بولیں یہ رفو نے کیا کر دیا ۔ پوری کی پوری مرغی کا صابن گھول کر رکھ دیا ۔۔ پھر وہ گھلا ہوا صابن ہم سب نے ہنس ہنس کر اور لیکن مزے لے لے کر پیا ۔

ہم سب ہنس بول رہے تھے ۔۔

کہ اچانک

معصومیت اوڑھے ہوئے وہ دن جھپاک سے کہیں کھو گئے ۔

پورا منظر بدل گیا

امی ابو ، رفو کے آپی اباجان ، زاہدہ کی امی اباجی ۔۔ ہمارے بڑے کہیں کھو گئے

وقت کبھی جو ہمارا اپنا تھا کسی بد لحاظ ٹرین کی طرح سب کچھ پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا

ہمارے گھر بھی ہمارے نہیں رہے ہیں ۔۔ یہ کوئی اور گھر ہیں ، یہاں گھر والے بھی کوئی اور ہیں ۔ یہ زندگی بھی اب وہ نہیں رہی کوئی اور ہے

کہتے ہیں ایک بار پھر گھر بدلے گا اس بار گھر بدلے گا گھر والے نہیں ہوں گے صرف پڑوس ہو گا ۔ پڑوسی اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں ۔ کوئی کسی کے گھر نہیں آتا جاتا،

” امی امی ۔۔۔”

اچانک میری نواسی فزا کی آواز نے سارا منظر تحلیل کر دیا ہے

” کل علینا کی سالگرہ ہے ۔ سب سہیلیاں اس کے گھر ڈے سپینڈ کرنے جائیں گی ، امی میں بھی جاوْں”

فزا کی ماں نے کہا

“ہاں چلی جاوْ ، شام کو میں تمیں خود پِک کرنے آوْں گی ۔۔۔ اکیلی مت آنا ۔۔”

Shahnaz Parveen Sahar is one of the outstanding literary figures of Urdu literature. She has written a few poems in Punjabi as well.  Her diction and style, both in poetry and prose are widely appreciated among literary circles.
Read more from Shahnaz Parveen Sahar

Read more Urdu Stories

Shahnaz Parveen Sahar
Shahnaz Parveen Sahar
READ MORE FROM THIS AUTHOR

Shahnaz Parveen Sahar is one of the most famous literary figures of Urdu literature from Pakistan. She has written many poems in Punjabi as well.  Her diction and style, both in poetry and prose are widely appreciated among literary circles. Her best poems include ‘Kalam-e-Shayer,’ ‘Zindagi Ki Lakeer Janti thi,’ and ‘Aik Sawal.’

Read more from Shahnaz Parveen Sahar

1 thought on “کوئی آواز دیتا ہے ۔۔۔ شہناز روین سحر

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: