غزل ۔۔۔ ذوالفقار احمد تابش

 

Zulfiqar Ahmad Tabish is a very senior and famous writer we have today. He is a poet, a prose writer and a painter. A blend of tasawuf is visible in his Gazal and Nazm.  His paintings are a mode of his creative expression with unique colours, tones, curves and lines.

غزل

( ذوالفقار احمد تابش )

صبح کی اوٹ میں وہ رنگ فروزاں کیا تھا

بام خورشید پہ اک عکس درخشاں کیا تھا

کیا ہی وہ خواب تھا سینہ ہے فروزاں اب تک

اور اس خواب میں پنہاں مہ تاباں کیا تھا

عکس در عکس تھا کچھ عکس درخشاں سے پرے

ایک موہوم کے اندر وہ نمایاں کیوں تھا

اک عجب کھیل تھا وہ ظاہر و پوشیدہ کا

دشت میں دھوپ تھی اور دھوپ میں لرزاں کیا تھا

کیا تھی خوشبو کہ معطر تھی ہوائے گلشن

صحن مہتاب میں وہ سرو خراماں کیا تھا

وعدہ ضبط بہت خوب نبھایا ہم نے

عمر بھر سینے میں لیکن وہ بیاباں کیا تھا

تابش اس عشق نے مشکل میری آساں کر دی

یہ نہ ہوتا تو میرے جینے کا ساماں کیا تھا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: