خونی لفظ ۔۔۔ سعیدہ گزدر

Saeeda Gazder was an out spoken writer and poet. Her literary works show her life long association with the bright awaited morning.

خونی لفظ

( سعیدہ گزدر )

تعفن سے بھری گلیوں میں

کیچڑ سے لت پت رستوں میں

بے خبری کے عالم میں

جو رہتے ہیں

ہاتھ پھیلائے

کشکول تھامے کھڑے ہیں

پانی کی اک بوند پر

اکثر قتل ہو جاتے ہیں

بارش اور وباوں میں

کیڑوں کی مانند مرتے ہیں

اسکول کی چھت اور دیوار تلے

کتنے بچے

دفن ہو جاتے ہیں

اس بربادی کو

وہ تابوت میں سجاتے ہیں

قسمت کا کھیل بتاتے ہیں

لفظوں کے انبار تلے

علم کو دفناتے ہیں

ہم جینے کی خاطر مرتے ہیں

وہ موت کے قانون بناتے ہیں

لفظوں کے اس خونی ناٹک میں’

وہ کتنا خون بہا دیں گے

کتنے گناہ معاف کروایئں گے

کتنوں کو پھانسی دے کے مٹایئں گے

تب جی پایئں گے

پھر بھی ہر پھندے میں

ایک گرہ

ان کے نام کی پڑ جاتی ہے

نیندیں حرام کر جاتی ہے

حساب میں لگ جاتی ہے

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930