کچھ لوگ کبھی نہیں مرتے ۔۔۔ ثمینہ سید
کچھ لوگ کبھی نہیں مرتے ثمینہ سید منٹو تقسیم شدہ شخص تھا .منتشر ذات کے
A collection of Urdu poetry, short stories, and essays — classic and contemporary voices from Pakistan and beyond.
کچھ لوگ کبھی نہیں مرتے ثمینہ سید منٹو تقسیم شدہ شخص تھا .منتشر ذات کے
منزل منزل اے حمید راجدہ نہ کہا تھا ميرے متعلق افسانہ مت لکھنا، ميں بدنام
کلر بلائینڈ تنویر قاضٰی وہ رنگوں کے جنگل سے بھاگ نکلتا ہے تصویر اُس کا
نظم ثروت حسین ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے جوتوں کی جوڑی
نظم سبین علی اس نے بڑی روشن راہوں پر آنکھوں میں پہاڑوں جیسا عزم لیے
چندہ سیمیں درانی نہ جانے کہاں سے دوبارہ آکر وہ کچرے کے ڈھیر پہ بے
بھوکا حرا ایمن شہر میں نت نئے ریسٹورانٹ برساتی کھمبیوں کی مانند کھل رہے تھے۔
قاتل ژاں پال سارتر لندن کی عدالت میں کل ایک غیر معمولی مقدمہ پیش ہونے
سوال ( سلمان حیدر ) سڑکوں پہ سناٹا ہے اور جن عمروں میں مائیں بیٹوں
نارنگ مریم عرفان ہر انسان کے اندر ایک جانور چھپا ہے جو کبھی کبھی سراٹھاتا