ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے ۔۔۔ ثروت حسین
ایک نظم کہیں سے بھی شرو ع ہو سکتی ہے ایک نظم کہیں سے بھی
ایک نظم کہیں سے بھی شرو ع ہو سکتی ہے ایک نظم کہیں سے بھی
سوال سڑکوں پہ سناٹا ہے اور جن عمروں میں مائیں بیٹوں کے سگریٹ سے سلگے
گُم شدہ پینٹنگ ( تنویر قاضی ) باقی جسم درختوں کی اوٹ میں تھا گھوڑے
غزل ( نجیب احمد ) شب بَھلی تھی نہ دن بُرا تھا کوئی جیسا جی
غزل ( شہزاد احمد ) دُوریء منزل کا ٹھکانہ نہیں سانس بھی لینے کا زمانہ
“ایک خط ــــــ آشنا ورثوں کے نام” (اختر حسین جعفری ) گئے زمانے کے راستے
راکھ (سیمیں درانی ) کتنے خدا بپھرے چنگھاڑتے پھرتے ہیں کالی جبینیں،ناتریشیدا بال اہنے اپنےشبدوں
پانی کے جسم والی عورت (ہروندر سنگھ ) عورت کا جسم پانی سے بنا ھوتا
غزل ( ریاض مجید ) رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں شعلۂ مضطر
غزل ( عدیم ہاشمی ) کس حوالے سے مجھے کس کا پتا یاد آیا حسنِ