ویلیکور: خالد حسن خان سے پاکستان کی پہلی ادبی تھرلر کے بارے میں گفتگو
ویلیکور ایک ایسا احساس ہے جس سے ہمارے بہت سے قارئین شاید واقف ہوں۔ یہ وہ احساسات ہیں جو پرانی لائبریریوں اور پرانی کتابوں کی دکانوں میں گھومتے ہوئے جاگ اٹھتے ہیں، پیلے پڑتے صفحوں کی خوشبو، اور ان کہانیوں کی دلگیر یادیں جو نسلوں سے زندہ ہیں۔ پاکستانی فلم ساز خالد حسن خان نے یہی احساس ایک تھرلر میں ڈھال دیا ہے۔
ویلیکور چالیس منٹ کی ایک ادبی تھرلر ہے جو کراچی کی تاریخی فریئر ہال لائبریری میں فلمائی گئی ہے جو کہ ایک عظیم الشان نوآبادیاتی دور کی عمارت ہے جہاں تقریباً ستر ہزار کتابیں محفوظ ہیں۔ فلم میں ہادی نامی ایک لائبریرین لائبریری کو قبضے اور سافٹ ویئر ہاؤس میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا ساتھ دیتا ہے ورقہ جو کہ کاغذ کی روح ہے۔ ویلیکور، خالد کے اپنے الفاظ میں، پاکستان کی پہلی ادبی تھرلر ہے۔
خالد حسن خان نے اپنا پورا کرئیرایسی فلمیں بناتے ہوئے گزارا ہے جو کسی ایک خانے میں نہیں سماتیں، مگر ہمیشہ ایک ہی فکر کے گرد گھومتی ہیں: جب ترقی تحفظ سے آگے نکل جائے تو ہم کیا کھو دیتے ہیں۔ ویلیکور ان کا تازہ ترین پروجکٹ ہے، اور اس کی ریلیز سے پہلے پین سلپس کو ان سے گفتگو کرنے اور جاننے کا موقع ملا کہ تحریر کے دفاع میں فلم بنانے کا کیا مطلب ہے۔

سوال: اس کہانی میں ایک بیٹا اپنے والد کی لائبریری کو سافٹ ویئر ہاؤس میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا آپ نے پاکستان میں ایسا کچھ خود دیکھا یا محسوس کیا ہے؟
درحقیقت ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں کہ کھیتوں کو رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں تبدیل کیا جا رہا ہے، کتابوں کی دکانیں ریستورانوں میں بدل رہی ہیں، اور ہماری تہذیبی میراث زوال کا شکار ہے؛ ہماری اجتماعی وراثت متاثر ہو چکی ہے۔ اخبارات ٹی وی چینلز بن کر رہ گئے ہیں، اور میڈیا ہاؤسز یوٹیوب اکاؤنٹس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ زوال دراصل ایک واضح انتباہ ہے۔
کیا ہمیں اسے صرف ڈیجیٹل دور کی تبدیلی قرار دینا چاہیے یا یہ بنیادی طور پر لالچ اور جہالت کا نتیجہ ہے؟ مغربی معاشرے اپنی دیرپا تہذیبی وراثت کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ نہیں کرتے؛ اور اگر وہ کوئی تبدیلی کرتے بھی ہیں تو ایک خاص سطح کی ترقی کے بعد۔ ہم اس کے برعکس نقل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہماری ترقی غیرمتوازن اور محدود ہے۔ سافٹ ویئر ہاؤسز بذاتِ خود نہ اچھے ہیں نہ برے، لیکن ترقی پذیر ملک میں پہلے ذہن کے “ہارڈ ویئر” کو ترقی دینا اور درست کرنا ضروری ہے۔
یہ سب کچھ روزانہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن ہم آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں شاید ہم یہ کہنے لگیں کہ ہم کتابیں، اخبارات اور رسائل “ریلز” پر پڑھ رہے ہیں۔ بات سادہ ہے: کتاب ایک منظم اور منتخب علم ہے، اخبار ایڈیٹ کیا ہوا مواد ہے، اور رسالہ بہتر انداز میں ترتیب دیا گیا فکری اظہار ہے، لیکن جو شخص گہرے مطالعے کی تربیت یا سہولت سے محروم ہو، وہ بطور ڈیجیٹل اثر و رسوخ رکھنے والے فرد کے، آسانی سے غلط معلومات کا ذریعہ اور جہالت کی نمائندگی کرنے والا بن سکتا ہے۔ رجحانات اور وائرل مواد کسی قوم کو عظیم نہیں بناتے۔
سوال: ویلیکور بیک وقت کئی موضوعات کو چھوتی ہے — خواتین کی تعلیم، مطالعے کے رجحان میں کمی، لائبریریوں کا مستقبل، ڈیجیٹل بمقابلہ مطبوعہ۔ آپ کے نزدیک وہ ایک لڑی کون سی ہے جو ان سب کو ایک ساتھ پروتی ہے؟
افسانوی کردار نور النسا اس کا مرکزی نکتہ ہے۔ گہرائی میں جائیں تو میں نے لائبریری کو ماں کی گود سے تشبیہ دینے کی کوشش کی ہے، جو بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ خواتین کی تعلیم نہایت اہم ہے؛ اگر ماں تعلیم یافتہ نہ ہو تو بچہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح لائبریری ماں کی آغوش کی علامت بن جاتی ہے، جبکہ وہ کہانیاں جو ماں اپنے بچے کو سناتی ہے، کتابوں کی ایک لائبریری کی مانند ہیں؛ کہانیاں نہیں تو پرورش بھی نہیں۔
مطالعے کے رجحان میں کمی ویلیکور کا ایک اور اہم موضوع ہے: کہانی سنانے کا فن خود زوال پذیر ہو رہا ہے، اور نئی نسل کے لیے علم کے ذرائع صرف لازمی نصابی کتابیں یا سوشل میڈیا رہ گئے ہیں۔ لائبریریاں بھی مناسب مالی معاونت سے محروم ہیں، اور ویلیکور اسے ایک ایسے ادارے کے طور پر دیکھتی ہے جسے ایک ناقابلِ تسخیر قلعے کی طرح محفوظ رہنا چاہیے۔ ہادی، جو اس کا مرکزی کردار ہے، لائبریری کو ایک عوامی امانت کے طور پر بچانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔
اس طرح لائبریری ایک بنیادی مسئلہ بن جاتی ہے، جو آج کل عملاً ایک میوزیم بنتی جا رہی ہے، جہاں بہت کم قارئین جاتے ہیں۔ اور آپ نے جو ڈیجیٹل اور پرنٹ کا فرق اٹھایا ہے وہ بھی نہایت اہم ہے۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سقراط، غالب اور کرشن چندر کو اکثر غلط انداز میں نقل کیا جاتا ہے؟ اگر انہیں اصل پرنٹ اور سیاق سے ہٹا دیا جائے تو وہ سوشل میڈیا کے فٹبال مقابلے میں ایک گیند بن کر رہ جائیں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ویلیکور بچوں کو ماں کی گود کے ذریعے بچانا چاہتی ہے، اور لائبریری اس کا علامتی اظہار ہے۔
سوال: آپ نے فریئر ہال میں ستر ہزار کتابوں کے درمیان فلم بندی کی۔ کیا شوٹنگ کے دوران کوئی ایسا لمحہ آیا جب اس جگہ کے سبب خود ہی کچھ غیر متوقع طور ہو گیا؟
ستر ہزار کتابیں ہمارے اصل ستارے تھیں، اور تمام کردار غیر اداکار تھے۔ انہوں نے اس سے پہلے کبھی کیمرے کے سامنے کام نہیں کیا تھا۔ غیر متوقع طور پر، اس جگہ نے کتابوں کے لیے ایک احترام کا جذبہ جگایا، اور انہوں نے اپنے مکالمے کردار کی ضرورت کے مطابق ادا کیے۔ سب میک اپ اور ملبوسات میں تھے، اور اگرچہ اس نوعیت کے ادبی مکالمے ادا کرنا کم ہی متوقع ہوتا ہے، سب نے شاندار کارکردگی دکھائی۔
مرکزی کردار ڈاکٹر سید سعید الرحمٰن اس سے پہلے کسی بھی فکشن یا نان فکشن پراجیکٹ کا حصہ نہیں رہے تھے۔ انہوں نے شدید گرمی میں سیاہ شیروانی پہن کر مکالمے ادا کرنے کا ذہنی اور جذباتی بوجھ اٹھایا۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ فرئیر ہال لائبریری کے اندر ایئر کنڈیشننگ کے باوجود صحارا صحرا جیسا محسوس ہوگا۔
اسی طرح شمیم شیرازی نے نیلی آنکھوں والے کانٹیکٹ لینز اور رومن طرز کا ٹوگا پہنا۔ وہ ورقہ کے کردار کی عکاسی کر رہے تھے۔ ہوا دار لباس میں وہ نسبتاً پرآرام رہے اور انہوں نے “کاغذ کی روح” کی کلاسیکی کارکردگی پیش کی۔ یہی حال باقی کاسٹ کا بھی تھا۔
فلم ساز کے لیے غیر متوقع حیرت یہ تھی کہ اس درجۂ حرارت، حالات، وسائل اور بجٹ کے اندر رہتے ہوئے اس پروجیکٹ کو مکمل کیا گیا۔ آخرکار ستر ہزار کتابیں ہی اصل ستارے ہیں، اور وہ آپ کی توقع کے مطابق ہی برتاؤ کرتی ہیں۔

سوال: آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ کہانی محض تفریح نہیں بلکہ ایک تحریک ہونی چاہیے۔ ویلیکور دیکھنے کے اگلے دن ایک ناظر سے آپ کی کیا توقع ہے کہ وہ کیا مختلف کرے؟
اصل بات یہ ہے کہ کسی بھی تجربے کا اصل ثبوت اس کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ میرا سابقہ پراجیکٹ ‘اسکرین لاکڈ’ تھا، جو ڈیجیٹل ایڈکشن کے موضوع پر تھا۔ اسے ایس او ٹی (اسکول آف ٹومارو)، لاہور لٹریری فیسٹیول، دی بلیک ہول اسلام آباد، اور کراچی لٹریچر فیسٹیول میں پیش کیا گیا۔ یہ تیس منٹ کی فلم اسی سال امریکہ میں بہترین شارٹس کا مقابلہ جیت چکی ہے۔
یہ محض فلم نہیں بلکہ فکری قیادت پر مبنی مواد تھا۔ جب آپ ایک ایسی فلم بناتے ہیں جو ناظرین کو اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے روکتی ہے تو اس کا متبادل بھی دینا ضروری ہوتا ہے۔ ویلیکور اسی کا حل ہے، جو کتابوں کی طرف لوٹنے اور ان سے جڑنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس طرح یہ ایک وسیع تحریک کا حصہ ہے جس کا مقصد لوگوں کو اپنے آلات کے استعمال سے پہلے سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔
ہم نے اسکرین لاکڈ کی نمائشوں میں مختلف عمر اور طبقے کے ۱۰۰ سے ۵۰۰ افراد کے اجتماعات دیکھے، اور کوئی بھی دورانِ نمائش ہال سے باہر نہیں گیا۔ بعد میں انتہائی سنجیدہ سوال و جواب کے سیشن ہوئے۔ اسکرین پر تفریح تھی اور بعد میں مکالمہ۔
ایک اچھی فلم کا مقصد آخر میں گفتگو کا باعث بننا ہوتا ہے۔ ویلیکور کے بعد اگلی صبح کا تصور یہ ہے کہ لوگ دوبارہ کتابوں، ڈائجسٹوں، رسالوں اور اخبارات کی طرف لوٹیں۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ فلم خطبہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ کسی انسان کی زندگی میں ایک منفرد چنگاری پیدا کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
سوال: آپ نے ویلیکور کو پاکستان کی پہلی ادبی تھرلر قرار دیا ہے۔ اس طرح کی فلم یہاں بنانا کتنا مشکل رہا اور کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا؟
اس قسم کی فلم نہ تو آسانی سے بنتی ہے اور نہ ہی کئی خطوں میں بنائی جا سکتی ہے۔ ہر کوئی اس کی کامیابی پر شک کرتا ہے، کیونکہ ایسے کام اکثر کاغذ پر ہی تدریسی اور بورنگ بن جاتے ہیں۔
کسی بھی ایسے پراجیکٹ کا پہلا قدم یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی توجہ اسکرپٹ کی سطح پر ہی حاصل کی جائے۔ اگر اسکرپٹ کتابیں پڑھنے کے خشک وعظ جیسا محسوس ہو تو کوئی اسے نہ پروڈیوس کرتا ہے نہ اداکار اس میں کام کرتے ہیں۔
ویلیکور بطور پہلی ادبی تھرلر اتنی ہی سنسنی خیز ہے جتنی ادبی ہے۔ اس میں کلاسیکی تین ایکٹ اسٹرکچر ہے، ایک پیچیدہ اور موڑ لینے والا پلاٹ ہے، اور ایک غیر متوقع انجام ہے۔ یہ ایک اصل اسکرین پلے ہے۔ ایک ایسی کہانی جو پہلے کبھی نہیں سنی گئی۔
بطور فلم ساز اس طرح کے پراجیکٹ کے چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ کئی فلم ساز مین اسٹریم اداکاروں کے پاس جاتے ہیں جو بدقسمتی سے ہمیشہ ایسے تجرباتی کاموں کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ وہ مکالموں کے ساتھ مکمل طور پر جڑ نہیں پاتے کیونکہ وہ مواد کو حد سے زیادہ “کتابی” سمجھ لیتے ہیں۔
ہمارا مرکزی کردار ہادی ایک ڈاکٹر آف میڈیسن بھی ہے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی رکھتا ہے، اس لیے وہ سیٹ پر اشیاء کو بہتر طور پر سمجھ کر استعمال کر سکتا ہے۔ کتابیں اسے الرجی نہیں دیتیں، اور اخبارات و رسائل اس کے لیے صرف کافی ٹیبل کا سامان نہیں ہیں۔
ہماری انڈسٹری ابھی ایسے چیلنجز کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، اور یہ واقعی مشکل ہے۔ فلم سازی میں محفوظ دائرے آخری منزل نہیں ہوتے۔ لیکن خوش قسمتی سے ہمارے شریک پروڈیوسر سید اویس علی نے اس پراجیکٹ کو آگے بڑھایا۔
ہم شکر گزار ہیں کہ پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑے ہوئے پبلشنگ ادارے اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر کہانی ایک لفظ سے شروع ہوتی ہے، اور سوشل میڈیا کا بصری مواد بھی بغیر تحریر کے مکمل نہیں ہوتا۔ ویلیکور ایسے ہی ساتھیوں کی مہربانی سے سامنے آتی ہے جو یقین رکھتے ہیں کہ کتابیں اب بھی انسانیت کی بہترین دوست ہیں۔
جب میں نے پہلی بار ٹریلر دیکھا تو میں اسے سراہتے ہوئے یہ بھی سوچتی رہی کہ کہیں ویلیکور بھی ان فلموں میں سے تو نہیں جو اچھے ارادوں کے باوجود سینما کے پردے پر ایک وعظ بن کر رہ جاتی ہیں۔ کیا اس میں ایسے مناظر ہوں گے جو لوگوں کو کتابوں کی اہمیت کا درس دیتے نظر آئیں گے؟ انٹرویو میں خالد نے خود اس خطرے کا اعتراف کیا۔ یہ جان کر اطمینان ہوا کہ وہ فلم بناتے وقت اس امکان سے آگاہ تھے۔ انہوں نے اسے کامیابی سے نبھایا یا نہیں، یہ تو فلم دیکھ کر ہی معلوم ہوگا۔
مگر جو بات دیر تک ذہن میں گھومتی رہی وہ ورقہ تھا: کاغذ کی روح، فکری ورثے کا مجسمہ، ایک رومن طرز کے ٹوگا میں ملبوس۔ یہ ایک سوچا سمجھا اور باشعور انتخاب ہے، جو قدیم یونانی و رومن تہذیب کی گہرائی اور ذہانت کی ان تمام علامتوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جنہیں ہم فکر و دانش سے جوڑتے ہیں۔ بصری طور پر یہ کارگر ہے۔
مگر یہ ایک سوال بھی چھوڑ جاتا ہے: اگر کاغذ کی روح کو اپنی مٹی کے قریب کسی لباس میں ڈھالا جاتا تو وہ کیسی دکھتی؟
وادیٔ سندھ کی تہذیب، جو دنیا کی ارقیٰ ترین قدیم تہذیبوں میں سے ایک تھی، ایک ایسی تحریر چھوڑ گئی جسے آج تک کوئی پڑھ نہیں سکا۔ نہ کوئی ترجمہ شدہ متن، نہ کوئی قابلِ بازیافت کہانی، نہ کوئی فکری روایت جسے ہم پہچان کر کہہ سکیں کہ یہاں سے ہمارے علمی ورثے کا آغاز ہوتا ہے۔
وہ تحریر ابھی بھی منتظر ہے، اور شاید یہ انتظار خود ہی ایک کہانی ہے جو سنائی جانے کی مستحق ہے۔
ویلیکور، انجانے میں، اس انتظار کا آئینہ بھی ہے۔
خالد حسن خان
خالد حسن خان ایک فلم ساز اور ادیب ہیں جن کی فلمیں ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ میں 100 سے زائد بین الاقوامی فلمی میلوں میں نمائش کی جا چکی ہیں اور 27 ایوارڈ جیت چکی ہیں۔ نیویارک فلم اکیڈمی، لاس اینجلس سے پروڈیوسنگ میں فارغ التحصیل، انہوں نے بین الاقوامی ناظرین سے اپنا تعارف ‘ہوٹل’ سے کروایا، جو ایک نفسیاتی فیچر فلم تھی۔ اس کے بعد ‘بیئرفٹ’ آئی جو پاکستان کی بین المذاہب فٹ بال ثقافت پر ایک دستاویزی فلم ہے، اور پھر ‘اسکرین لاکڈ’، ایک نفسیاتی تھرلر جو ڈیجیٹل لت کے موضوع پر بنائی گئی اور امریکہ میں بیسٹ شارٹس کمپیٹیشن میں ایوارڈ آف میرٹ جیتی۔ ویلیکور ان کی تازہ ترین فلم ہے۔
