رایئگانی ہے کوئی ۔۔۔ جاوید شاہین

رایگانی ہے کوئی

( جاوید شاہین)

ٹیلی فون کی گھنٹی بج رہی تھی مگر کوئی رسیور اٹھا نہیں رہا تھا.وہ فون بند ھی کرنے والا تھا کہ دوسری طرف سے ہیلو کی آواز سنائی دی. یہ اس کے بیٹے کی آواز تھی.

کیسے ہو بیٹے اس نے پوچھا.

میں ٹھیک ہوں ابو. بیٹے نے جواب دیا. اس کی آواز میں وہ خوشی نہیں تھی جو بیٹے کو باپ کی آواز سن کر ہوتی ہے.

. میں فون بند ہی کرنے والا تھا باپ نے کہا

. مجھے واش روم میں دیر ہو گئی میں شیو بنا رہا تھا بیٹے کا لہجہ اب بھی ہہلے جیسا تھا.

پہلے بھی دو مرتبہ تمہیں فون کیا تھا. باپ نے بتایا. تم جان گئے ہو گے.

. میں نے آپ کے دونوں پیغام سن لئے تھے بیٹے نے بتایا.

اس کے باوجود تم نے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی.

بیٹا لمحہ بھر خاموش رہنے کے بعد بولا. میرا خیال تھا روٹین کے فون ہوں گے. ادھر میرے پاس کہنے کو کوئی بات ہی نہیں تھی.

. باپ کو ایک جھٹکا سا لگا اس کے باوجود اس نے بات جاری رکھی. یہ تو پوچھ سکتے تھے کہ میں نے کس لئے دو مرتبہ فون کیا تھا ہماری خیریت ہی پوچھ سکتے تھے.. تم جانتے ہی ہو کہ تمہاری ماں تمہارے بارے میں کس قدر فکرمند رہتی ہے

. میرا خیال تھا آپ لوگ ٹھیک ہی ہوں گے بیٹے کے لہجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی.

امی کو تو جیسے فکرمندی کی عادت.سی پڑ گئی ہے 

باپ کے دل میں ایک مایوسی اترنے لگی. اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا. بعد وہ بیٹے سے مزید کیا بات کریے. آخر اس نے کہا. اس کا مطلب تو یہ ہے کہ میں فون بند کر دوں

جیسے آپ کی مرضی۔ بیٹے نے بے دلی سے جواب دیا.

. باپ نے فون بند کر دیا ۔ وہ کرسی سے اٹھ کر اپنے بیڈ پر آگیا اور تکیہ کا سہارا لے کر.نیم دراز حالت میں لیٹ گیا. بیٹے کا رویہ اس کے لئے صدمے سے کم نہ تھا. جیسے وہ باپ سے مزید تعلقات رکھنے کا خواہشمند نہیں تھا اس کے انداز گفتگوسے ظاہر ہوتا تھا… اس نے سوچا کہ ابھی وہ کسی سے اس کے متعلق بات نہیں کرے گا. بیوی سے بھی نہیں ورنہ وہ بہت دکھیا ہو جائے گی. یہ بھی محض اتفاق تھا اس وقت وہ دوسرے کمرے میں تھی. پہلے ہی بیٹے کے بارے میں غم زدہ رہتی تھی اگر وہ کمرے میں ہوتی اور دونوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سن لیتی. تو اسکا کیا حال ہوتا فرض کیا پوچھ ہی لیتی کہ کس سے بات کر رہے تھے تو کہہ دے گا کسی دوست کا فون آیا تھا.. خدشہ یہ تھا کہ جب وہ فون پر بیٹوں سے بات کر رہا تھا تو ملازمہ کمرہ صاف کرنے اندر آئی تھی وہ تھوڑی سی ٹھٹھکی تھی. کہیں وہ بات نہ کر دے۔.

. کوئی چار ماہ پہلے بیٹے کا فون آیا تھا. کینیڈا اور امریکہ میں 18 برس گزارنے کے بعد بیٹے نے مستقل طور پر پاکستان آنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا. اس نے باپ سے پوچھا تھا کہ واپس آنے پر اسے اپنے فیلڈ میں جاب ملنے کے کیا امکانات تھے باپ نے اس وقت کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا. لیکن اتنا بتا دیا تھا کہ پاکستان کی صنعتی اور معاشی زبوں حالی کے پیش نظر ابھی وہ کوئی حتمی جواب دینے سے قاصر تھا.. اس نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ کن وجوہات کی بنا پر بیرونی سرمایہ پاکستان نہیں آرہا تھا. یہی سبب تھا کہ صنعت کے شعبے میں ترقی نہ ہونے کے باعث نئے جاب پیدا نہیں ہو رہے تھے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ پہلے سے موجود صنعتی ادارے بھی کسمپرسی  کی حالت میں تھے. ان کے بند ہونے کا خطرہ بڑھ رہا تھا۔ …اور یہ کہ اس طرح تعلیم یافتہ نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں ذلیل و خوار ہوتے رہتے تھے.. اور ان کی ایک قابل لحاظ تعداد اپنی قابلیت سے کم درجے کی ملازمتیں کرنے پر مجبور تھی یا وہ چوری چکاری اور ڈاکہ زنی پر اتر آئی تھی۔.

بیٹا باپ کی باتیں خاموشی سے سنتا رہا تھا. بعد میں اسے افسوس بھی ہوا کہ بیٹے کے سامنے پاکستان کی تاریک تصویر کشی نہیں کرنی چاہئے تھی. مگر وہ جھوٹ نہیں بولنا چاہتا تھا بیٹے کا پاکستان واپس آنے کا ارادہ باپ اور دوسرے گھر والوں کے لیے بڑا غیرمتوقع  اور اچانک تھا.. وہ اس لیے کہ بیٹا جب سے پاکستان سے گیا تھا اس نے پلٹ کر دیکھا تک نہیں تھا ان اٹھارہ برس میں وہ ایک مرتبہ بھی پاکستان نہیں آیا تھا. جیسے اس نے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو.ملنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی. کبھی کبھار فون کر لیتا تھا. وہ بھی جیسے کوئی فرض پورا کر رہا ہوں گھر والے ہی عمعما اسے فون کرکے اس کی خیریت دریافت کرتے رہتے تھے۔ باپ کو یہ دکھ ستاتا رہتا تھا کہ بیٹا کس وجہ سے سب سے لاتعلق ہو گیا تھا. اس سارے عرصے میں  ماں اور باپ ہی دو دفعہ اسے ملنے گئے تھے. جب کوئی بیٹے کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھتا تو گھر والوں کو جواب دینے میں بڑی مشکل پیش آتی. خاموش رہتے.ان کی خاموشی لوگوں کو شک میں ڈال دیتی مگر وہ کسی کو کیا بتاتے کہ بیٹا انہیں ملنے کیوں نہیں آتا۔.

بیٹے نے پاکستان واپس آنے کا ارادہ ظاہر کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔.

بیٹے کے ارادے سے آگاہ ہونے کے بعد اس نے اپنے احباب اور دوسرے قریبی لوگوں سے پوچھنا شروع کردیا تھا کہ اس کے بیٹے کے سلسلے میں اس کی کیا مدد کر سکتے تھے۔ آخر دو ایک احباب ایسے نکل آئے جنہوں نے حامی بھر لی تھی  کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور کرسکتے تھے۔.

اب وہ بیٹے کو یہ خوشخبری سنانا چاہتا تھا لیکن بیٹے کے رویے نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیا تھا

اس نے بیٹے کو تعلیم کے لئے کینیڈا بھیجا تھا. وہاں اس نے مانٹریال میں کنکوڑڈیا یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی تھی. گریجویشن کے بعد مانٹریال میں اسے جاب نہیں مل رہی تھی۔ مانٹریالان دنوں صنعتی بحران سے گزر رہا تھا. ایف سولہ طیارے کے پرزے بنانے والا ادارہ اور جنرل موٹرز وہاں سے منتقل ہو رہے تھے. اعلی تعلیم یافتہ نوجوان عام نوعیت کے جاب کر کے گزارہ کر رہے تھے اسی عرصے میں بیٹے نے وہاں ایک پاکستانی فیملی میں شادی بھی کر لی تھی۔ بد قسمتی سے یہ شادی زیادہ عرصہ چل نہ سکی اور میاں بیوی میں علیحدگی ہوگئی.. شادی کی نشانی ایک بیٹا تھا جسے ماں ساتھ لے گئی. مان نے دوسری شادی کرلی اور وہ ایک دوست کے مشورے پر امریکہ چلا گیا جہاں اسے ایک الیکٹریکل کمپنی میں حسب تعلیم جاب مل گیا. مگر امریکہ میں اس کا دل نہ لگا وہ تین سال گزارنے کے بعد ٹورنٹو چلا آیا. چاہیے تو یہ تھا کہ ٹورنٹو آنے سے پہلے جاب کا انتظام کرکے جاتا مگر اس نے ایسا نا کیا تھا.. اس کا خیال تھا کہ ٹورنٹو صنعتی طور پر آگے بڑھ رہا تھا اور اسے تجربے کی بنا پر کہیں نہ کہیں جاب مل جائے گا اگر ایسا نہ ہوا اور اسے گزراوقات کے لیے دوسری نوعیت کے کام کرنے پڑے. آخر حالات سے تنگ آکر اس نے پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

یٹے نے تین سال امریکہ میں اپنی کوالیفیکیشن کے مطابق جاب کرنے کے سواب بیرون ملک کا باقی سارا عرصہ ایک ناکام آدمی کی حیثیت سے گزارا تھا.. دوسرے لفظوں میں اس نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ ایک طرح سے ضائع کردیا تھا یہی بات باپ کو دکھ دے رہی تھی۔.

. اس نے بیٹے کے لیے کتنے خواب دیکھے تھے. کتنے شوق سے تعلیم کے لئے باہر بھیجا تھا. اپنی جمع پونجی اس پر خرچ کر دی تھی۔ جب اس نے اچھے نمبروں سے گریجوایشن کی تھی تو اسے کس قدر خوشی ہوئی تھی.. اس کا سر فخر سے اونچا ہو گیا تھا. پھر مایوسیوں کا ایک طویل دورانیہ شروع ہو گیا جس میں بیٹا وقت کے بے رحم دھارے میں ڈوبتا ابھرتا رہا اس کی طرف سے خوشی کی کوئی خبر نہیں آتی تھی. پہلے اس کی شادی کی ناکامی اور بعد میں حسب تعلیم جاب کی کمیابی. دونوں باتیں باپ کے لیے ایک روگ بن گئیں۔.

مگر دونوں جگہ بیٹا ہی زیادہ قصوروار دکھائی دیتا تھا جس کی حد سے بڑھی ہوئی خود پرستی نے اس کی زندگی عذاب بنا رکھی تھی  اور دنیا سے اس کی ہم آہنگی پیدا نہیں ہونے دے رہی تھی. یہ مسئلہ ا سے ابتدائی زندگی  ہی سے تنگ کر رہا تھا۔ شادی کی ناکامی کی بڑی وجہ بھی یہی تھی. جب وہ اپنی بہو کو دیکھنے کینیڈا کیا تھا تو بہو نے سسر کے سامنے شکایتوں کے انبار لگا دیے تھے.. وہ بے بسی کی حالت میں بہو کی باتیں سنتا رہا. بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی کیونکہ اس کے پاس اپنی ہر بات کا جواز موجود تھا. کیا کر سکتا تھا.جب شادی ختم ہونے کی اطلاع ملی تو اسے زیادہ پریشانی نہ ہوئی. وہ پہلے سے اس کی توقع کر رہا تھا۔

جاب تلاش کرنے کے معاملے میں بھی بیٹے کا رویہ کچھ ایسا نارمل نہیں تھا. اس کے لئے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے تعلقات بنانے پڑتے ہیں۔ اپنی قابلیت ثابت کرنی ہوتی ہے ۔ انٹرویو کے وقت خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ کئی قسم کے سمجھوتوں سے کام لینا ہوتا ہےاسے زمانہ سازی آ ہی نہیں رہی تھی پھر ایک بات اور تھی.. جہاں جاب کرتا اسے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہوجاتی. وہ تعلیم  یافتہ تھا تجربہ کار تھا اس کے باوجود تعلیم اور تجربے کے مطابق جاب نہیں مل رہا تھا. بات کچھ ایسی لوگوں کی سمجھ سے باہر بھی نہیں تھی۔.

بیٹے کے لیے پاکستان آنے کا بہترین موقع وہ تھا جب وہ امریکہ میں تین سال سے زیادہ عرصہ جاب کرکے ٹورنٹو چلا گیا تھا. اس وقت پاکستان میں اسے باآسانی جاب مل جاتا..بآپ نے اسے مشورہ بھی دیا تھا. سنی ان سنی کر دی تھی. من مانی کرنے والے آدمی کو قائل کرنا مشکل ہوتا ہے.باپ  چپ رہا اب پانچ برس اپنے فیلڈ سے باہر رہ کراسے پاکستان  آنے کا خیال آیا تھا. اس مدت میں اس کے فیلڈ میں نہ جانے کس قدر فنی ترقی ہو چکی ہوگی۔ اس قسم کے شعبوں میں تو آنکھ جھپکنے کی مہلت بھی نہیں ملتی.

. ایسی بات بھی نہیں تھی کہ اسے بیٹے کے سرد رویے کی وجہ معلوم نہیں تھی کچھ عرصہ پہلے اس نے باپ کی جائیداد میں سے اپنا حصہ مانگ لیا تھا۔ ٹورنٹو میں کوئی فلیٹ وغیرہ خریدنا چاہتا تھا. یہ مطالبہ اس قدر غیر متوقع اور اچانک تھا کہ باپ بوکھلا گیا تھا. اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بیٹے کو کیا جواب دے ایک طرف تو بیٹا پاکستان انے کا اظہار کر رہا تھا اور دوسری طرف ٹورنٹو میں فلیٹ خرید رہا تھا.. یہ بڑی عجیب بات تھی. وہ پاکستان آنا چاہتا تھا کہ وہیں رہنا چاہتا تھا باپ تذبذب کا شکار ہو گیا. سب سے بڑی بات یہ بھی تھی کہ اس کی اولاد میں سے کسی نے اس طرف ابھی تک کوئی اشارہ تک نہیں کیا تھا یہ تو پنڈورا باکس کھولنے والی بات تھی. اور پھر اس کی تعلیم پر جو رقم خرچ ہوئی تھی وہ کس کھاتے میں جانی تھی۔دوسرے بیٹے اس طرف اشارہ کر سکتے تھے.

ویسے بھی باپ کے پاس تھا ہی کیا.. ایک مکان جس میں وہ اپنے دوسرے بیٹے کا ساتھ رہا تھا گریجویٹی کی رقم جو اس ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ملی تھی. اس رقم سے اس نے سیونگ سرٹیفیکیٹ خرید رکھے تھے جن سے حاصل ہونے والی ہر ماہ منافع کی رقم اور پینشن پر میاں بیوی کا گزارا ہو رہا تھا. اپنے کسی بیٹے پر بوجھ نہیں بنا تھا نہ ہی بننا پسند کرتا تھا۔..

بیٹے کا مطالبہ پورا کرنے کی دو ہی صورتیں تھیں یا تووہ گریجویٹی کی پوری رقم بیٹے کو بھیج دے اور اپنی گزر بسر کے لیے بیٹوں کا دست نگر ہو جائے. ایسا وہ ہرگز کرنے کو تیار نہیں تھادوسری صورت یہ تھی کہ وہ مکان بیچ کر بیٹے کو اس کا حصہ ادا کردے اور خود سڑک پر ڈیرہ جما لے یہ بات بھی قابل عمل نہیں تھی. ناجانے بیٹے کا دھیان اس صورت. کیوں نہیں گیا تھا۔

. وہ بیٹے کی تعلیم کے اخراجات کے لیے اسے ہر سہ ماہی ایک مقررہ رقم بھیجتا رہا تھا. تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب بیٹا جاب کرنے لگا تھا تو اس نے باپ سے کبھی پوچھا تک نہیں تھا کہ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں تھی افسوس تو اسے اس بات کا کہ جب بیٹا امریکہ میں جاب کر رہا تھا اور اس کی آمدنی بڑی معقول تھی اس نے گھر فون کرنا ہی بند کر دیا تھا کہ کہیں کوئی اس سے کچھ مانگ نہ لے۔.

مگر جس بات کی باپ کو سب سے زیادہ تشویش تھی. وہ ایک دوسراا مسئلہ پیدا ہونے کی تھی۔بیٹے کے آنے سے گھر کی فضا نے ایک دم بدل جانا تھا.. اس میں ایک قسم کا تناؤ پیدا ہو جانا تھا۔ جب وہ یہاں تھا  اور سب ایک ہی گھر میں رہتے تھے تو اس وقت اسکے تعلقات  اپنے دوسرے بھائیوں سے کچھ ایسے قابل رشک نہیں تھے۔ اس وقت ان کے درمیان آئے دن کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا رہتا تھا. وہ سب سے بڑا  تھا پر اسے بڑا بھائی بننا نہیں آیا تھا وجہ وہی اس کی خود پسندی۔ خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا تھا دوسروں کی چیزیں اس کے نزدیک مال مفت تھیں مگر اپنی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا… یہی بات جھگڑے اور بدمزگی کا باعث بن جاتی تھی۔ جب وہ کینیڈا جا رہا تھا تو اسے بظاہر سب نے گرم جوشی اور خوشی سے روانہ کیا تھا مگر اندر سے ہر کوئی اطمینان کا سانس لے رہا تھا۔

گر اب اس کے دوبارہ آنے سے ویسی ہی صورتحال پیدا ہوسکتی تھی. خاص طور پر اس کے بھائی کے ساتھ جو ان دنوں. بیوی اور بچوں کے ہمراہ باپ کے ساتھ رہا تھا. بڑے بیٹے نے ان سارے برسوں میں خود کو ذرا بھی نہیں بدلا تھا غیر ملکی آب و ہوا اور بود و باش نے اسکا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔وہ جو کہا جاتا ہے کہ زمانہ سب سے بڑا اتالیق ہے. بہت کچھ سکھا دیتا ہے بڑے بڑوں کے کس بل نکال دیتا ہے یہ بات اس کا بیٹے کے بارے میں کچھ ایسی درست ثابت نہیں ہوئی تھی۔

. وہ بیڈ پر ابھی تک نیم دراز حالت میں لیٹا ہوا تھا ۔ اب اسکی آنکھیں  بالکل سامنے والی دیوار پر اس جگہ مرکوزتھی جہاں بارش کے پانی نے دیوار کے اندر سرایت کر کے رنگ کو خراب کر دیا تھا اور اس پر ایک بڑا سا بد نما داغ پھیل گیا تھا۔ اس نے سوچا دیوار کا وہ حصہ خشک ہونے. وہ داغ کو کھرچ کر خود ہی رنگ کردے گا۔

. بیٹے کے رویے نے اس سے سخت مایوس کر بدل کر دیا تھا. بآپ سے بات کرنے کا بھلا یہ کوئی طریقہ تھا اس نے سوچا ہوگا کہ باپ کو دباؤ میں لا کر اپنی بات منوالے گا. پہلے بھی وہ ایسا کرتا رہا تھا.. مگر اب ایسا نہیں ہوگا ۔ غلطی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے.. اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آج کے بعد وہ بیٹے کو فون نہیں کرے گا ۔جہاں تک اس کے پاکستان آنے کا تعلق تھا سوچنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا   کہ بیٹے کا یہاں آنا کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔.

Read more from Javed Shaheen

Read more Urdu Stories

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: