آخری غزل ۔۔۔ اختر کاظمی

آخری غزل

( اختر کاظمی)

دہر میں ہے بھی کیا جبر ہی جبر ہے
زیست بھی جبر ہے مرگ بھی جبر ہے
سانس لینا بھی ہے اختیاری کہاں
یہ بھی اک ناروا دائمی جبر ہے
عمر بھر یہ ہمیں خوش گمانی رہی
جو مسلط ہے یہ آخری جبر ہے
تیرگی راس جن کو ہے ان کے لئے
اک کرن بھر کی بھی روشنی جبر ہے
دل میں جو ہے وہ کہنے کی ہمت نہیں
مصلحت جبر ہے بے بسی جبر ہے
ٹوٹتا ہی نہیں لاکھ تدبیر کی
ہم پہ قرنوں سے اک آہنی جبر ہے
کہہ رہی ہے یہ تاریخ اختر ہمیں
اہل،دنیا کا دستور ہی جبر ہے

 (اختر کاظمی گزشتہ ہفتے کے دوران انتقال کر گئے)

Read more from Akhtar Kazmi

Read more Urdu Poetry

1 thought on “آخری غزل ۔۔۔ اختر کاظمی

  1. واااااااااااااہ ۔ تاریخ کےجس جبر میں ہم رہ رہے ہیں اس کی نہایت عمدہ عکاسی کی ہے آپ نے۔ ہمارا جینا مرنا ایک سا ہے کیونکہ ہمیں کچھ بھی کرنے یا سوچنے کا اختیار نہیں۔ ہماری آنکھوں سے ہمارے خواب چھین لئے گئے ہیں اور ہمارے دل میں حسرت و یاس کا سمندر ہے۔ کوئی امید بر نہیں آتی والی کیفیت ہے اور اس کی وجہ سیاسی و معاشرتی و معاشی جبر ہے۔ بہت عمدہ کلام ہے۔ ائی ۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: