غزل ۔۔۔ شہناز پروین سحر


 غزل

( شہناز پروین سحر )


ایک بلور سی مورت تھی سراپے میں سحر
چھن سے ٹوٹی ہے مگر ایک چھناکے میں سحر

پاوْں کی انگلیاں مُڑ جاتی ہیں بیٹھے بیٹھے
چیونٹیاں رینگتی ہیں تن کے بُرادے میں سحر

ٹوٹتے رہتے ہیں کچھ خواب ستاروں جیسے
کرچیاں پھیلتی رہتی ہیں خرابے میں سحر

کاغذوں میں تو لکھا ہو گا اسی گھر کا پتہ
خود وہ رہتا ہے کسی اور علاقے میں سحر

کتنی مشکل سے گذرتا ہے لہورگ رگ سے
انگلیاں باندھ رہا ہے کوئی دھاگے میں سحر

کچی پنسل کی لکیروں سے ابھارے تھے نقوش
صدق دھندلا گیا مٹتے ہوئے خاکے میں سحر

یونہی معمول کی اک بات پہ دل ٹوٹ گیا
گھر تو ٹوٹا تھا کسی اور دھماکے میں سحر

زرد چہروں پہ لکیروں کی زباں کون پڑھے
وقت کچھ شاعری کرتا ہے بڑھاپے میں سحر

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: