غزل ۔۔۔ ذوالفقار تابش
غزل ذوالفقار تابش سارے لمحے سر نگوں تھے سارے پل ٹھیرے ہوئے تھے وادیاں سنسان
غزل ذوالفقار تابش سارے لمحے سر نگوں تھے سارے پل ٹھیرے ہوئے تھے وادیاں سنسان
عورت تاریخ کیوں نہیں لکھتی صفیہ حیات جس زمانے میں عورت کے حقوق کے لیے
جہیز میں کتاب تھی نسیم سیدٰ کتاب میں فرائض و حقوق زوجیت کے سب اصول
لَے سبین علی محبت تو وہ لے ہے جو ہنسلی سے کٹی بانسری سے نکلتی
واپسی محمد حمید شاہد محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا
نظم (عذرا عباس ) ہم موت سےپوچھتے ہیں کیوں آتی ہو اور کہاں سے کبھی
خوف کے لفافے میں لپٹا ہوا خط حفیظ تبسم جب تاریخ کی کتاب سے جملے
قصہ میراں کے بچے کا سرمد صہبائی قصہ میراں کے بچے کا اللہ جانتا ہے
نظم تنویر قاضی میلہ گھومتے ھوئے وہ گُم ھو جاتے ہیں ابھی تک گھر تک
نظم مائرہ انوار راجپوت الماری میں کپڑوں تلے چھپا دیتی ہوں لیکن اسکی چیخیں پھر