Day: November 3, 2018

تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی ۔۔۔ راشد جاوید احمد

November 3, 2018

تاریخ اپنے آپ کو کبھی نہیں دہراتی (راشد جاوید احمد) ” تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے” یہ بات ہم اکثر و بیشتر سنتے رہتے ہیں، بہت پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ افراد، اساتذہ، ٹیلیویژن کے اینکرز اور عام لوگ، سب کہیں نہ کہیں شعوری غیر شعوری طور پر یا مذاقا اس فقرے کا […]

Read More

نیلی نوٹ بک9 ۔۔۔ انور سجاد

November 3, 2018

نیلی نوٹ بُک ( عمانویل کزا کیویچ )  مترجم: ڈاکٹر انور سجاد عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں کا پہلا مجموعہ ” ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف کروایا۔ بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی بہار، دل […]

Read More

لاجوتی ۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی

November 3, 2018

لا جونتی ( راجندر سنگھ بیدی ) ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹےا (یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری، ہاتھ بھی لگاؤ تو کمھلا جاتے ہیں) —— ایک پنجابی گیت بٹوارہ ہوا اور بے شمار زخمی لوگوں نے اُٹھ کر اپنے بدن پر سے خون پونچھ ڈالا اور پھر سب مل کر ان […]

Read More

پچھان ۔۔۔ راشد جاوید احمد

November 3, 2018

پچھان راشد جاوید احمد چودھری جبار خان، ہاشم پور دا چودھری سی۔ اج توں کوئی دس پندراں ورھے پہلاں اوہنے اپنے یاراں دوستاں نال رل کے اپنے دفتر دے خزانے دے کاغذاں اچ اجیہا ہر پھیر کیتا کہ ہر یار نوں چنگی چوکھی رقم لبھی۔ اینی وڈی رقم اوہ دس نوکریاں کر کے وی حاصل […]

Read More

پنجابی عیسائی ۔۔۔ آصف شاہکار

November 3, 2018

پنجابی عیسائی  سید آصف شاہکار  وطن دے اندر بے وطنے  تے دیس دے اندر بے دیسے  آپنے گھر دے اندر دے وچ ر ہن وانگ پرائے ایس مِٹی چوں جمے جائے  پر کہان باہروں آئے اک ای ماں دے پیٹ چوں جمے  کْجھ سکے تے پاک پوتر  کْجھ پلیت مترئے  مینوں آپنی پاک ذات تے […]

Read More

زندگی تھی ۔۔۔ فوزیہ رفیق

November 3, 2018

زندگی تھی   ( فوزیہ رفیق ).  ژندگی ثھی جو پیچھے گژاری ہے میں نے کہانی نہیں جو سنا دی گیی ہو. ثم وہیں ثھیں، میں رنگین چادر میں ژخمی بدن چھپا پھر رہی ثھی  گردہی ثھی ثم نے بھی مجھ کو سنبھالا دیا ثھا ثرے ساثھ گژرے لمحوں کي صداقث ثمہاری رفاقث کی طاقث […]

Read More

غزل ۔۔۔ اختر کاظمی

November 3, 2018

غزل ( اختر کاظمی ) شہر کب تک رہیں گے یونہی بے صدا کب کھلے گا کوئی پھول آواز کا فرش سے عرش تک خوف ہی خوف ہے خوف ہو حاکموں کا کہ خوف خدا اپنے گھر میں رہیں یا سفر میں رہیں زندگی کا فصیلوں سے ہے رابطہ سامنے بھی سمندر سرابوں کا ہے […]

Read More

صحرا کی ریت پھانکتی لڑکی ۔۔۔ صفیہ حیات

November 3, 2018

صحرا کی ریت پھانکتی لڑکی ( صفیہ حیات ) تم نے الزامات کی پوٹلی  سر راہ کھول کر زمانے بھر کی خاک میری مانگ میں بھر دی میں چپ رہی۔ ۔ تم نے اک اک سے ناکردہ گناہوں کی خود گھڑی داستاں کہی۔ میں نے لب سی لئے۔ ۔ معصوم فرشتوں کی بھولی مسکان میں […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: